ممبئی؍دہلی،24؍اکتوبر(ایس او نیوز؍یواین آئی) ملک میں آئندہ سال 2019کے عام انتخابات میں مرکز اور ریاست مہاراشٹر میں اقتدار میں تبدیلی واقع ہوگی اور آج دونوں جگہ جن کا اقتدار ہے ،وہ دوبارہ منتخب نہیں ہوں گے اور 2019میں بی جے پی اقتدار سے باہر ہوجائے گی اور کسی بھی پارٹی کو اکثریت نہیں ملے گی ،لیکن بی جے پی کے لیڈران کی کوشش ہے کہ مذکورہ انتخابات کو مودی بمقابلہ راہل کردیا جائے جسے ہم ہونے نہیں دیں گے ۔نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی ) کے رہنماء شردپوار نے آج یہاں ایک نجی ذرائع ابلاغ سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا ہے ۔
شردپوار نے مزید کہا کہ 2019میں بھی بالکل 2004جیسے حالات پیدا ہوجائیں گے اور اُس وقت معلق لوک سبھامیں بیرون حمایت کے بعد ڈاکٹر من موہن کی قیادت میں حکومت تشکیل دی گئی تھی۔یہی صورتحال 2019میں ہونے کا امکان ہے ،انہوں نے کہا کہ اس طرف کو ئی توجہ نہیں دیتا ہے ،دنیا بھر کے کئی ملکو ں میں اتحادی سرکاریں کام کررہی ہیں ،جرمنی ،برطانیہ اور یورپ کے بیشتر ممالک میں ملی جلی سرکاریں ہیں۔بی جے پی کی حکمت عملی ہے کہ 2019کے انتخابات کو مودی بمقابلہ راہل گاندھی کردئے جائیں ۔لیکن ایسا ہوگا نہیں کیونکہ الیکشن کے بعد قیادت کون کرے گا یہ طے کیا جائیگا۔شردپوار نے کہا کہ ملک کے عوام تبدیلی کی خواہش کررہے ہیں اور آئندہ سال 2019میں ملک میں ایک تبدیلی واقع ہوگی اور مرکزمیں اتحادی حکومت کا امکان ہے ،اس بات کا اشارہ پی چدمبرم نے بھی دیا ہے ۔کانگریس کا وزیراعظم بنے گا ،ایسا نظرآرہا ہے ،2004میں من موہن سنگھ وزیراعظم نامزد کئے جائیں گے ،ایسا کسی نے نہیں سوچاتھا ،لیکن یہ ممکن ہوگیا اور 2019میں بھی یہی حالات پیدا ہوں گے اور ایک نئی قیادت ابھر نے کے بھی امکانات ہیں۔
شردپوار ے ایک سوال پر کہا کہ وہ زمین پر پاؤں رکھنے کے عادی ہیں اور وزرات عظمیٰ کیلئے ان کے پاس عدد نہیں ہیں ،اس لئے کچھ کہنا بے معنی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سابق آنجہانی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی جیسے مودی میں لیڈر شپ نہیں ہے ،بی جے پی کے وہ طاقتور لیڈر ہوسکتے ہیں مگر ملک کے لئے منصوبہ بندی میں ناکام نظرآتے ہیں ،وہ صرف ’من کی بات‘کرتے ہیں اور’جن کی بات‘ پر توجہ نہیں دیتے ہیں ،البتہ مودی نے کہا کہ مودی کے پاس ٹیم ہے ،لیکن اس کی ٹیم میں کام کرنے کی صلاحیت نہیں ہے جبکہ نصف فائلیں پی ایم او میں پاس ہوتی ہیں ۔کانگریس نے مودی حکومت پر کسانوں کو نظرانداز کرکے صنعت کاروں کو فائدہ پہنچانے اور عوام کا بینکوں میں جمع پیسہ ان پر لٹانے کا الزام لگایا اور کہا کہ کسانوں کا قرض معاف کرنے کے بجائے ان کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے ۔کانگریس کی متحد تنظیم کسان کھیت مزدور کانگریس نے منگل کو یہاں منعقد ہ’’ پارلیمنٹ کا محاصرہ‘‘پروگرام میں اترپردیش ،اتراکھنڈ ، ہریانہ ،پنجاب،راجستھان ،ہماچل پردیش سمیت کئی دیگر ریاستوں کے کسانوں نے بڑی تعداد میں حصہ لیا اور مودی حکومت پر کسانوں سے وعدہ خلافی کا الزام لگایا۔کانگریس لیڈران نے اس دوران کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا کسان آنے والے انتخابات میں مودی حکومت کو وعدہ خلافی کرنے کے لئے سبق سکھائیں گے ۔کانگریس اقتدار میں آئے گی تو کسانوں کے ساتھ انصاف کیا جائے گا اور ان کے ساتھ ناانصافی کرنے والوں کو سزا دی جائے گی۔کانگریس جنرل سکریٹری اور اترا کھنڈ کے سابق وزیراعلیٰ ہریش راوت نے کہا کہ مودی حکومت نے کسانوں کو ان کا حق دینے کے بجائے ان کے ساتھ ناانصافی کی ہے ۔اپنے حق کا مطالبہ کرنے والے کسانوں کے ساتھ ملک کے مختلف حصوں میں ناانصافی کی گئی اور ان پر لاٹھی چارج اور فائرنگ کی گئی ۔اترپردیش کانگریس کے صدر راج ببر نے کہا کہ ملک کے کسان کو کانگریس صدر راہل گاندھی کی قیادت پر بھروسہ ہے اور مسٹر گاندھی اقتدار میں آنے کے بعد کسانوں کے ساتھ ہورہی ناانصافی کا بدلہ لیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں جہاں بھی کسان اپنے حق کی بات کرتا ہے اس کے ساتھ ناانصافی کی جاتی ہے ۔